نئی دہلی ،7؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے دھن باد جج قتل کیس میں ججوں کی شکایات پر سی بی آئی کے رویہ پر ناراضگی ظاہر کی ہے- سپریم کورٹ نے کہا کہ اس ملک میں ایسے کئی کیس ہیں جن میں گینگسٹر / ہائی پروفائل لوگ ملوث ہیں - ایسے لوگ ججوں کو دھمکیاں دیتے ہیں، کچھ معاملات میں سی بی آئی انکوائری کے احکامات بھی دیئے گئے، لیکن سی بی آئی نے کچھ نہیں کیا- سی بی آئی کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی- سی بی آئی کے رویے میں تبدیلی چاہتے ہیں - جج کے قتل کیس میں سی بی آئی کو نوٹس جاری کیا گیا ہے- اس معاملے کی پیر کو سماعت ہوگی - سی جے آئی نے کہا کہ2019 میں مرکز کو ایسے معاملے میں جواب دینا تھا، لیکن مرکز نے جواب نہیں دیا-مرکزی حکومت کو ایک ہفتے میں جواب دینا چاہیے- سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسے کیس بھی سامنے آئے ہیں جہاں گینگسٹر یا ہائی پروفائل ملزم نچلی عدالتوں کے ججوں اور ہائی کورٹس کے ججوں کودھمکیاں دیتے ہیں - وہ ججوں کو جسمانی یا ذہنی طور پر ہراساں کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ واٹس ایپ اور فیس بک پر دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجتے ہیں - ججوں کو دھمکیاں دیتے ہیں - جج اپنے سر سے شکایت کرتے ہیں - اگر پولیس یا ایجنسیوں کو شکایات کی جاتی ہے تو کوئی کارروائی نہیں کی جاتی- سی بی آئی، آئی بی جیسی ایجنسیاں عدلیہ کے ساتھ تعاون نہیں کرتیں -سی جے آئی این وی رمنا نے اے جی کو بتایا کہ ہم اس معاملے میں آپ کا تعاون چاہتے ہیں - جھارکھنڈ حکومت کے وکیل نے کہا کہ اس معاملے میں ہم نے واقعہ کے دن22 رکنی ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی- دو افراد کو گرفتار کرکے پوچھ گچھ کی جارہی ہے-30 جولائی کو سی بی آئی انکوائری کی سفارش کی گئی ہے- معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں -